Wednesday, January 25, 2012

حقانی میمو: غداری کی پاکستان میں ایک نئی اونچائی



سابق فوجی اور سویلین پاکستانیوں کی ایک نئی امریکہ نواز ٹیم نے پاکستان کی افواج اور آی ایس آی پر قبضہ کرنا تھا۔ حقانی نے میمو میں انکی نشاندہی کی اور منصور اعجاز نے انکے نام زبانی طور پر امریکیوں کو بتائے۔ وہ کون ہیں؟

Click here to read the English version of this report

حسین حقانی اس بات کی شدت سے نفی کرتے ہیں۔ ایک اہم گواہ کو دور رکھنے کے لئے دھمکیاں دی جارہی ہیں، اور امریکا صدر آصف علی زرداری کی نا اہل حکومت کو بچانے کے لئے کوششوں میں مصروف ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ 'میمو' غداری کے لئے پاکستان میں ایک نئی اونچائی ہے۔

افسوس ہے کہ پاکستانی اپنے ملک کے ساتھ غدر کرنے میں نئی داستانیں رقم کررہے ہیں جو غداری کی تاریخ میں بھی شاید انوکھی ہوں۔ یہ کارنامے پاکستانی عوام کے نھیں ہیں، جو پاکستان پرست محب وطن ہیں۔ یہ کارنامے پاکستان کا بکا ہوا حکمران طبقہ سرانجام دے رہا ہے۔

ایک منتخب حکومت کے لئے اس سے بڑھ کر کوئی غداری نھیں ہوسکتی کہ وہ خفیہ طور پر ایک غیر ملک کے ساتھ ملکر اپنے ہی ملک کی فوجی قیادت کا سر کاٹنے کی سازش کرے، قوم کے اسٹریٹیجک ہتھیاروں کا سودا کرے، اور رضا کارانہ طور پر ملک کے اہم سٹریٹجک مفادات پر ہتھیار ڈال دے۔

میمو کیس میں پاکستانی وفاقی حکومت ان تینوں کاموں میں ملوث پائی گئی ہے۔

اور کوئی شک نہیں کہ پاکستانی صدر کے ہم راز اور ساتھی، جناب حسین حقانی، اس سازش میں ملوث ہیں۔

لیکن حقانی صاحب اکیلے نھیں ہیں۔ ان کے امریکی شراکت داروں کے علاوہ پاکستانی شراکت داروں کی ایک فہرست بھی موجود ہے۔

یہ پاکستان دشمن میمو ایک مکمل پالیسی ہے۔ پاکستان کو بغیر گولی چلائے ہتیار ڈالنے کا یہ بھترین نسخہ ہے۔ اور یہ نسخہ اکیلے حسین حقانی کا تیار کردہ نھیں ہے۔ اس میں کچھ ریٹائرڈ فوجی اور سویلین افراد شامل ہیں جو ماضی میں سویلین منصبوں پر فائز رہیں ہیں۔ یہ کام ان طاقتور پاکستانیوں نے صرف ایک طاقتور غیر ملکی حکومت، ریاست ہائے متحدہ امریکہ، اور اس کی فوج اور انٹیلی جنس کی خدمت میں کیا۔

پاکستانی شہریوں، ایمان دار سیاستدانوں (اگر کوئی ہے)، اور ملک کی قومی سلامتی کے مینیجرز پر فرض عائد ہے کہ وہ اس کیس کو سنجیدگی سے لیں۔

ایک دن شاید میمو سکولوں میں پڑھی جائیگی کہ ملکوں کے ساتھ غداری کس طرح کی جاتی ہے، لیکن فی الحال آپ میمو کا مندرجہ ذیل جملہ با جملہ تجزیہ ملاحظہ کریں اور دیکھیں کس طرح اس میمو نے غداری کی حدیں توڑدیں۔ یہ پڑھنے کے بعد آپ کو کسی ثبوت کی ضرورت نھیں پڑے گی۔ اس مضمون کا مقصد پاکستانیوں کو آگاہ کرنا ہے تاکہ کوئی بھی اس کیس کو قالین کے تحت نہ چھپا سکے۔  

[میمو میں حسین حقانی اور زارداری حکومت کیخلاف شواھد کے بارے میں آپ ہمارا تفصیلی جائزہ رپورٹ اس لنک پر پڑھ سکتے ہیں:
http://bit.ly/wpCNso
مندرجہ ذیل اردو زبان میں انگریزی رپورٹ کا مختصر ملاحظہ فرمائیں]

غداری کا میمو

۱۔  میمو کے مصنفین نے 'سویلینز' اور 'فوج' کے درمیان حکومت کو تقسیم کرکے پاکستان میں قومی تقسیم اور خلفشار پیدا کرنے کی کوشش کی۔ یہ تقسیم پاکستانیوں میں لڑائی کرانے کے مرادف ہے۔ [میمو کا پھلا فقرہ]

۲۔  میمو کے مصنفین نے پاکستان میں فوجی بغاوت کے ایک غلط تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی اور ملک کو خطے میں جنگی صورتحال کے باوجود بدترین اندرونی افرا تفریح میں دکھیلنے کی کوشش کی۔۔

۳۔  میمو کے مصنفین نے ایک گمراہ کن جملہ، یعنی کہ 'سول۔فوجی تعلقات' استعمال کرتے ہوئے پاکستانی مسلح افواج کے خلاف سازش کی اور وہ بھی ایک غیر ملک کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے۔ یاد رہے کہ سول۔فوجی تعلقات دیگر مسائل کی طرح ایک اندرونی پاکستانی معاملہ ہے۔ اس میں غیر ممالک کو ملوث نھیں کیا جاسکتا، جیسا کہ حقانی میمو میں کرنی کی کوشش کی گئی۔

۴۔  میمو کے مصنفین نے آئی ایس آئی پر اسلام آباد میں سی آئی اے کے اسٹیشن چیف کا نام فاش کرنے کا الزام لگایا ہے۔

۵۔  میمو کے مصنفین نے پاکستان پر القاعدہ دھشت گرد تنظیم کا گڑہ ہونے کا الزام لگایا ہے جو سراسر غلط ہے۔

۶۔  میمو کے مصنفین نے ' 1971لمحے' کے اصطلاح کا استعمال کیا اور امریکی حکومت کو مشورہ دیا کہ یہ جملہ استعمال کرکے پاکستانی فوج کو بلیک میل کا جائے۔ اس کا مطلب تھا پاکستانی فوج کو ملک توڑنے کی دھمکی دینا اگر فوج نے سی آئی اے ویزوں کے مسئلے پر زرداری حکومت اور حسین حقانی سے پوچہ گچہ کی۔

۷۔  میمو کے مصنفین نے امریکا سے پاکستان کی فوجی قیادت کو تبدیل کرنے کا وعدہ کیا [پیرا تین]

۸۔  میمو مصنفین نے وعدہ کیا کہ ایک نئی ’امریکہ نواز‘ پاکستانی قومی سلامتی  ٹیم فوج اور آی ایس آی کو چلائے گی۔ یہ ٹیم ایسے پاکستانیوں پر مشتمل ہے جن کے طویل عرصے سے امریکی حکومت، فوج اور سی آی اے سے گھرے تعلقات ہیں، بقول میمو کے۔۔

۹۔  میمو مصنفین نے تجویز دی کہ پاکستانی سرزمین پر امریکی فوج اور انٹیلی جنس آپریشنز کی اجازت دی جائیگی۔

۱۰۔ پاکستان کے جوہری پروگرام پر امریکی نگرانی کی تجویز پیش کی۔


اس میمو یا یادداشت کا آخری فقرہ انتھائی اھمیت کا حامل ہے۔ اسے پڑھنے سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان کے خلاف یہ سازش کتنی آگے نکل چکی ہے۔ اس فقرے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سابق فوجی اور سویلین پاکستانیوں کی ایک پوری ٹیم نے اس میمو کو لکھنے میں حصہ لیا۔ ان پاکستانیوں کے نام میمو میں موجود نھیں ہیں، لیکن یہ واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ انکے نام زبانی طور پر ایڈمرل مائیک مولن کو بتادیئے گئے ہیں، جو کہ اس وقت کے امریکی چیئرمین جوائنٹ چیفس تھے۔

1 comments:

  1. The way U.S finds itself entangled in Afghanistan since the last 12yrs speaks of it's worst defeat there AND if U.S fails to get out of Afghanistan it surely breaks into pieces like Russia. To avoid these circumstances U.S is ready to gamble on any side that can focus it's safe return to it's own destination. Table talks with Taliban (being the main resistance) are also a part of U.S agenda. The important facts that U.S forgets while applying any dogmatism on Pakistan by enforcing poverty, fake inflation, no jobs, lawlessness & injustice by a group of hired ineligible Meer Jafar lobby is that Pakistanis have turned out to be a nation having the ability to resist all these hardships & can Alhamdu Lillah survive in the
    worst crisis put on them. How did P.M Gilani dare to use words that go against Pakistan's solemnity as well as damage it's sovereignty can be well understood by the above article. But Mansur Ejaz seems to have disappeared like a chess soldier from the board U.S is trying to play various games on. U.S loses as a board can be used to play one game on it at a time. May Almighty Allah save Pakistan from any further damage by it's internal & external enemies.

    ReplyDelete

All comments are welcome. Please observe common courtesy rules, choose your ideas well and be brief and direct. We do not entertain any comments that encourage racism, spread hate, or are deemed anti-Pakistan.